ٹریٹ – ایک بلیڈ سے شروع ہونے والی کامیابی کی کہانی
پاکستان میں روزمرہ استعمال کی اشیاء بنانے والی صنعت نے وقت کے ساتھ کئی اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں، مگر کچھ مقامی کمپنیاں ایسی بھی ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنی جگہ بنائی بلکہ عالمی برانڈز کے مقابلے میں کھڑے ہو کر اپنی پہچان قائم کی۔ انہی میں ایک نمایاں نام ٹریٹ بلیڈ کمپنی کا ہے، جس نے ایک سادہ استرے کے بلیڈ سے سفر شروع کیا اور آج مردانہ گرومنگ کی مکمل مصنوعات پیش کرنے والی کمپنی بن چکی ہے۔
ٹریٹ کا آغاز ایک چھوٹے صنعتی یونٹ کے طور پر ہوا جہاں بنیادی توجہ صرف شیو کرنے والے بلیڈز کی تیاری پر تھی۔ محدود وسائل، سخت مقابلہ اور درآمد شدہ مصنوعات کی بھرمار کے باوجود اس کمپنی نے معیار پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ آہستہ آہستہ صارفین کا اعتماد حاصل ہوا اور کمپنی نے اپنی پیداوار میں وسعت لانا شروع کی۔ بلیڈز کے ساتھ ساتھ ڈسپوزیبل ریزرز، شیو کرنے کے جدید آلات اور بالوں کی تراش خراش کے لیے مختلف مصنوعات متعارف کرائی گئیں، جس سے یہ واضح ہوا کہ کمپنی صرف ایک محدود شعبے تک نہیں رہنا چاہتی بلکہ مکمل گرومنگ حل فراہم کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے۔
کمپنی کی تاریخ دراصل مسلسل جدوجہد، جدت اور مارکیٹ کی ضروریات کو سمجھنے کی کہانی ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستانی مارکیٹ میں شیو کرنے کی مصنوعات کے لیے غیر ملکی برانڈز جیسے جلیٹ اور نیویا پر زیادہ انحصار کیا جاتا تھا۔ اس کے نتیجے میں قیمتی زر مبادلہ ملک سے باہر جاتا رہا۔ ٹریٹ نے اس خلا کو محسوس کیا اور مقامی سطح پر ایسی مصنوعات تیار کیں جو معیار میں بہتر اور قیمت میں مناسب ہوں۔ اس حکمت عملی نے نہ صرف صارفین کو ایک سستا اور قابل اعتماد متبادل فراہم کیا بلکہ مقامی صنعت کو بھی مضبوط کیا۔
آج جب پاکستان درآمدات کے دباؤ اور زرمبادلہ کی کمی جیسے مسائل سے دوچار ہے، ایسے میں ٹریٹ جیسی کمپنیوں کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اگر مقامی صنعتیں معیاری مصنوعات تیار کریں تو نہ صرف درآمدی بل میں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ ملک کے اندر روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔ ٹریٹ نے اپنی مصنوعات کی رینج بڑھا کر یہ ثابت کیا ہے کہ اگر صحیح سمت میں سرمایہ کاری اور منصوبہ بندی کی جائے تو ایک چھوٹی کمپنی بھی قومی سطح پر اثر ڈال سکتی ہے۔
درحقیقت، ٹریٹ جیسے ادارے پاکستان کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ کمپنیاں صنعتی پیداوار میں اضافہ کرتی ہیں، مقامی سپلائی چین کو مضبوط بناتی ہیں اور ہنر مند افرادی قوت کو روزگار فراہم کرتی ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ خود انحصاری کے تصور کو فروغ دیتی ہیں، جس کی آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ اگر حکومت اور نجی شعبہ مل کر ایسی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کریں، انہیں سہولیات فراہم کریں اور برآمدات کے مواقع بڑھائیں تو یہی کمپنیاں مستقبل میں پاکستان کو ایک مضبوط صنعتی معیشت کی طرف لے جا سکتی ہیں۔

