پاکستان کا ریکارڈ سرپلس اور اصل چیلنج
مارچ 2026 میں پاکستان کے جاری کھاتہ میں ایک ارب ڈالر سے زائد کا سرپلس ریکارڈ ہونا بلاشبہ ایک بڑی اور خوش آئند خبر ہے۔ ایک ایسا ملک جو گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل خسارے کا شکار رہا، اس کے لیے یہ پیش رفت کسی حد تک اعتماد بحال کرنے کا باعث بنی ہے۔ خاص طور پر 2021 کے قریب جب معاشی حالات اس نہج پر پہنچ گئے تھے کہ ملک ڈیفالٹ کے دہانے پر کھڑا دکھائی دیتا تھا، اس وقت دوست ممالک کی بروقت مالی مدد نے صورتحال کو سنبھالا۔ چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے مجموعی طور پر اندازاً بارہ سے سولہ ارب ڈالر کے ذخائر پاکستان کے مرکزی بینک میں رکھوا کر معیشت کو سہارا دیا، جبکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پروگرام نے بھی ڈیفالٹ کے خطرے کو وقتی طور پر ٹالنے میں اہم کردار ادا کیا۔
تاہم اس کامیابی کے باوجود زمینی حقائق زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہیں۔ یہ سرپلس بڑی حد تک درآمدات میں کمی کی وجہ سے سامنے آیا ہے، نہ کہ برآمدات میں کسی غیر معمولی اضافے کے باعث۔ یہی وجہ ہے کہ جب متحدہ عرب امارات کی جانب سے ساڑھے تین ارب ڈالر واپس کرنے کا عندیہ دیا گیا تو مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی کی لہر دوڑ گئی۔ ایسے میں سعودی عرب کی طرف سے مزید تین ارب ڈالر جمع کروانے کا فیصلہ وقتی ریلیف کا سبب بنا اور معیشت ایک بار پھر آخری لمحے کے بحران سے نکل آئی۔ یہ تمام واقعات اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت اب بھی بیرونی سہاروں پر کھڑی ہے اور کسی بھی وقت دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ہنگامی بنیادوں پر ایسے اقدامات کرے جن سے درآمدات میں مستقل کمی اور برآمدات میں پائیدار اضافہ ممکن ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ ان تمام راستوں کو بند کرنا ناگزیر ہے جن کے ذریعے ہر سال قیمتی زرمبادلہ ضائع ہو جاتا ہے۔ اندازوں کے مطابق افغانستان اور ایران کے ساتھ غیر رسمی تجارت، اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی ذرائع سے سالانہ تقریباً دس ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، جو کہ پاکستان جیسی کمزور معیشت کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ افغانستان کے ساتھ تجارت کو باقاعدہ اور شفاف بنانے کی ضرورت ہے تاکہ یہ نقصان کم کیا جا سکے۔
توانائی کا شعبہ بھی اصلاحات کا متقاضی ہے۔ مہنگے تیل اور مائع قدرتی گیس پر انحصار کرنے والے منصوبے، خصوصاً آزاد بجلی پیدا کرنے والے ادارے، زرمبادلہ کے ذخائر پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں۔ اگر پاکستان مقامی وسائل جیسے تھر کے کوئلے، پن بجلی اور قابل تجدید توانائی کی طرف سنجیدگی سے منتقل ہو جائے تو نہ صرف درآمدی بل کم ہو سکتا ہے بلکہ طویل مدتی استحکام بھی حاصل ہو سکتا ہے۔ اسی طرح ملک میں جدید ریفائنریاں قائم کر کے مجموعی طورپر چار سے پانچ ارب ڈالر سالانہ کی بچت ممکن ہے۔
اس کے ساتھ صنعتی ترقی ناگزیر ہے۔ بڑے پیمانے پر صنعتکاری نہ صرف درآمدات کا متبادل فراہم کرے گی بلکہ برآمدات میں اضافہ کر کے معیشت کو حقیقی بنیادوں پر مضبوط بنائے گی۔ امریکا، چین، ایران، خلیجی ممالک اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ اقتصادی روابط کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ پاکستان جغرافیائی لحاظ سے ایک اہم راہداری پر واقع ہے جہاں سے توانائی اور تجارت کے بڑے منصوبے گزر سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں بھارت اور افغانستان کے ساتھ تجارت کا آغاز بھی معیشت کے لیے نئے دروازے کھول سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ حالیہ سفارتی اور سیاسی کامیابیوں نے پاکستان کا عالمی تشخص بہتر کیا ہے، مگر اب اصل امتحان یہ ہے کہ ان کامیابیوں کو معاشی استحکام میں کیسے بدلا جائے۔ ملک اور عوام اس وقت شدید معاشی دباؤ میں ہیں، اور وقتی سہارا دینے والے قرض یا ڈپازٹس اس مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ اگر پاکستان سنجیدگی کے ساتھ اصلاحات، صنعتکاری، توانائی خود کفالت اور علاقائی تجارت پر توجہ دے تو نہ صرف موجودہ بحران سے نکل سکتا ہے بلکہ مستقل بنیادوں پر ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے ملک کو ہمیشہ کے لیے قرضوں کے چکر اور کشکول کی سیاست سے نجات دلائی جا سکتی ہے۔

