BusinessLatest

لوڈ شیڈنگ کا عذاب اور توانائی کا بحران

ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر یہ حقیقت آشکار کر دی ہے کہ پاکستان کا توانائی کا شعبہ کس قدر کمزور بنیادوں پر کھڑا ہے۔ تیل اور ایل این جی کی قیمتوں میں اضافہ اور رسد میں ممکنہ کمی نے حکومت کو بڑے پیمانے پر لوڈ شیڈنگ کی طرف دھکیل دیا ہے۔ کئی علاقوں سے بارہ بارہ گھنٹے تک بجلی بند رہنے کی اطلاعات ہیں، جو نہ صرف شہری زندگی کو متاثر کر رہی ہیں بلکہ صنعتی سرگرمیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

یہ صورتحال ملک کی معیشت کے لیے انتہائی تشویشناک ہے۔ کارخانے بند ہو رہے ہیں، چھوٹے کاروبار تباہی کے دہانے پر ہیں اور گھریلو صارفین شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ گرمی کے موسم میں بجلی کی بندش نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ پیداوار میں کمی کے باعث اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے اور ملکی برآمدات بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ توانائی کا بحران اب صرف ایک سہولتی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک معاشی اور سماجی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ایک اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جہاں دنیا بھر میں متبادل توانائی کو فروغ دیا جا رہا ہے، وہاں پاکستان میں شمسی توانائی کی حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے۔ مختلف سطحوں پر ایسے اقدامات دیکھنے میں آ رہے ہیں جو گھریلو اور تجارتی صارفین کو شمسی نظام اپنانے سے روکتے ہیں۔ دوسری جانب آزاد بجلی گھروں کے معاہدوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے جو پہلے ہی قومی خزانے پر بھاری بوجھ بن چکے ہیں۔ یہ تضاد پالیسی سازی کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان جیسے ملک کے لیے شمسی توانائی ایک قدرتی اور فوری حل ہے۔ یہاں سال کے بیشتر دن دھوپ دستیاب رہتی ہے، جس سے فائدہ اٹھا کر گھروں، دفاتر اور سرکاری اداروں کو خود کفیل بنایا جا سکتا ہے۔ اگر حکومت سنجیدگی کے ساتھ اس شعبے کو فروغ دے، ٹیکسوں میں نرمی کرے اور نیٹ میٹرنگ جیسے نظام کو آسان بنائے تو نہ صرف بجلی کی قلت ختم ہو سکتی ہے بلکہ عوام کو سستی بجلی بھی میسر آ سکتی ہے۔

اب وقت آ چکا ہے کہ تمام متعلقہ فریقین سنجیدگی سے اس مسئلے پر غور کریں۔ توانائی کے بحران کا حل عارضی بندشوں یا مہنگے معاہدوں میں نہیں بلکہ ایک واضح اور عوام دوست پالیسی میں ہے۔ اگر گھریلو، تجارتی اور سرکاری سطح پر شمسی توانائی کو کھلے دل سے اپنایا جائے تو پاکستان نہ صرف اپنے توانائی بحران پر قابو پا سکتا ہے بلکہ ایک پائیدار اور سستی بجلی کے نظام کی طرف بھی بڑھ سکتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ملک کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جا سکتا ہے۔