آبنائے ہرمزپراٹکی پاکستانی معیشت
دنیا کے توانائی کے نقشے پر آبنائے ہرمز ایک ایسی گزرگاہ ہے جہاں سے گزرنے والا ہر جہاز صرف تیل ہی نہیں بلکہ عالمی معیشت کی رفتار بھی ساتھ لے کر چلتا ہے۔ حالیہ کشیدگی، جس میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں نے خطے کو ایک نئے عدم استحکام کی طرف دھکیل دیا ہے، اس نے دنیا بھر کی معیشتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ہر ملک کے بجٹ، کرنسی اور عوامی زندگی پر براہ راست اثر ڈال رہی ہیں۔ مگر ان تمام اثرات میں سب سے زیادہ حساس اور خطرناک صورتحال پاکستان کی معیشت کے لیے پیدا ہوئی ہے۔
پاکستان کا توانائی کا ڈھانچہ بنیادی طور پر درآمدی ایندھن پر کھڑا ہے۔ تیل، ایل این جی اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کا بڑا حصہ خلیجی ممالک سے آتا ہے، جن میں متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر، کویت اور عمان شامل ہیں۔ یہ وہی ممالک ہیں جو بعض اوقات پاکستان کو مؤخر ادائیگی کی سہولت بھی دیتے ہیں، جو وقتی طور پر معاشی دباؤ کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ لیکن جیسے ہی عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھتی ہیں، یہ سہولت بھی محدود ہو جاتی ہے اور درآمدی بل بے قابو ہو جاتا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ پر فوری دباؤ ڈالتا ہے، جو پہلے ہی ایک نازک توازن پر کھڑا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر کمزور ہوں، درآمدات زیادہ ہوں اور برآمدات محدود، تو ایسی صورت میں ہر بیرل تیل مہنگا ہونا معیشت کے لیے ایک نئے بحران کی دستک ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو بار بار آئی ایم ایف کی طرف دیکھنا پڑتا ہے، جہاں سے ملنے والی امداد وقتی ریلیف تو دیتی ہے مگر طویل مدتی خودمختاری کو مزید محدود کر دیتی ہے۔
پاکستان کی معیشت کا ایک اور ستون بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر ہیں، جو عملاً برآمدات کے برابر کھڑی ہیں۔ اندازہ ہے کہ پچاس سے ساٹھ لاکھ پاکستانی خلیجی ممالک میں کام کر رہے ہیں اور کل ترسیلات زر کا ساٹھ سے ستر فیصد حصہ انہی ممالک سے آتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کی معیشت نہ صرف توانائی کے لیے بلکہ زرمبادلہ کے لیے بھی اسی خطے پر انحصار کرتی ہے۔ اگر خلیجی معیشتوں پر کوئی دباؤ آتا ہے یا وہاں روزگار کے مواقع متاثر ہوتے ہیں تو اس کا سیدھا اثر پاکستان کے مالیاتی توازن پر پڑتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کی برآمدات خلیجی ممالک کے ساتھ اس سطح تک نہیں پہنچ سکیں جہاں تک پہنچنا چاہیے تھا۔ تقریباً پانچ ارب ڈالر کی برآمدات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ تجارتی امکانات موجود ہونے کے باوجود ان سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔ اس عدم توازن کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان خلیج سے زیادہ خریدتا ہے اور کم فروخت کرتا ہے، جس سے تجارتی خسارہ مزید بڑھتا ہے۔
یہ تمام عوامل مل کر ایک ایسی تصویر پیش کرتے ہیں جہاں پاکستان کی معیشت بیرونی جھٹکوں کے لیے انتہائی حساس ہو چکی ہے۔ مگر اس کہانی کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ یہ صورتحال کسی ایک واقعے یا بحران کا نتیجہ نہیں بلکہ برسوں کی پالیسی ناکامیوں کا عکس ہے۔ پاکستان کو اپنی صنعتی بنیاد مضبوط کرنی چاہیے تھی، برآمدات کو بڑھانا چاہیے تھا اور توانائی کے متبادل ذرائع پر سرمایہ کاری کرنی چاہیے تھی۔ لیکن اس کے برعکس صنعتی شعبہ مسلسل زوال کا شکار رہا، پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا گیا اور پالیسیوں میں تسلسل کی کمی نے سرمایہ کاری کو روکے رکھا۔
آج حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی معیشت اپنے قدموں پر کھڑی ہونے کے بجائے سہارا تلاش کرتی نظر آتی ہے۔ کبھی آئی ایم ایف، کبھی مغربی ممالک اور کبھی خلیجی ریاستیں، ہر طرف سے مدد کی امید لگائی جاتی ہے۔ یہ صورتحال کسی حد تک اس کرکٹ میچ کی مانند ہے جہاں ٹیم اپنی حکمت عملی پر بھروسہ کرنے کے بجائے کسی معجزے کی منتظر رہتی ہے۔ وقتی جیت ممکن تو ہو سکتی ہے، مگر مستقل کامیابی کے لیے مضبوط بنیاد ضروری ہوتی ہے۔
جب تک پالیسی ساز قومی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے طویل المدتی اور حقیقت پسندانہ فیصلے نہیں کریں گے، تب تک یہ چکر جاری رہے گا۔ پاکستان کو درآمدی انحصار کم کرنا ہوگا، صنعتی پیداوار کو بحال کرنا ہوگا، اور توانائی کے متبادل ذرائع جیسے قابل تجدید توانائی پر سنجیدگی سے کام کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹیکس نظام میں اصلاحات، برآمدات میں تنوع اور انسانی وسائل کی بہتر تربیت وہ عوامل ہیں جو معیشت کو حقیقی معنوں میں مستحکم کر سکتے ہیں۔
ورنہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی ہر کشیدگی، ہر عالمی بحران اور ہر تیل کی قیمت میں اضافہ پاکستان کے لیے ایک نئے امتحان کی شکل میں سامنے آتا رہے گا، اور ہم اسی طرح ہر بار کسی بیرونی سہارے کے منتظر رہیں گے، بجائے اس کے کہ اپنی معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کریں۔

