Featured

تیل کا عالمی بحران اور توانائی کے بدلتے رُجحانات

یوکرین جنگ اور آبنائے ہرمز کے ممکنہ بند ہونے جیسے واقعات نے دنیا کو ایک بار پھر یہ احساس دلا دیا ہے کہ توانائی کے شعبے میں بیرونی انحصار کس قدر خطرناک ہو سکتا ہے۔ برطانیہ کے وزیر اعظم اسٹارمر کا حالیہ بیان اسی بدلتی سوچ کی عکاسی کرتا ہے جس میں انہوں نے واضح کیا کہ یوکرین جنگ اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے بعد برطانیہ کو اپنی توانائی کی حکمت عملی پر ازسرنو غور کرنا ہوگا۔ یہ محض ایک ملک کا بیان نہیں بلکہ ایک عالمی رجحان کی نشاندہی ہے جہاں ہر ریاست اب اپنے مفادات کو نئے زاویے سے دیکھ رہی ہے۔

چین، جو دنیا میں توانائی کا سب سے بڑا صارف سمجھا جاتا ہے، اس تبدیلی کی سب سے بڑی مثال ہے۔ چین نے گزشتہ چند برسوں میں تیزی سے پن بجلی، جوہری توانائی، ہوا اور سورج سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر کام کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے کوئلے کے ذخائر کو بھی جدید طریقوں سے استعمال کر رہا ہے تاکہ تیل پر انحصار کم سے کم ہو۔ چین کی پالیسی واضح ہے کہ توانائی کے ذرائع مقامی ہوں اور بیرونی دباؤ سے آزاد ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نہ صرف اپنی ضروریات پوری کر رہا ہے بلکہ مستقبل کی عالمی منڈی میں بھی ایک مضبوط کھلاڑی کے طور پر ابھر رہا ہے۔

اسی طرح بھارت نے بھی اپنی حکمت عملی میں نمایاں تبدیلی لائی ہے۔ بھارت اب مقامی وسائل پر انحصار بڑھانے کے ساتھ ساتھ جدید جوہری ٹیکنالوجی، خاص طور پر بریڈر ری ایکٹر، کی طرف بڑھ رہا ہے جو اس وقت دنیا میں محدود ممالک کے پاس موجود ہے۔ اس کا مقصد صاف اور پائیدار توانائی کے ذریعے اپنی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔

یہ رجحان صرف ایشیا تک محدود نہیں رہا۔ یورپ، مشرق وسطیٰ اور دیگر خطوں میں بھی ممالک اب تیزی سے متبادل ذرائع کی طرف جا رہے ہیں۔ یوکرین جنگ نے گیس کی فراہمی کو متاثر کیا تو اب آبنائے ہرمز کی کشیدگی نے تیل کی قیمتوں کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ ایسے میں ہر ملک اس کوشش میں ہے کہ وہ اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے بیرونی دنیا پر کم سے کم انحصار کرے۔

اسی پس منظر میں برقی گاڑیوں کا رجحان بھی تیزی سے بڑھنے کی توقع ہے۔ جیسے جیسے تیل مہنگا اور غیر یقینی ہوتا جا رہا ہے، ویسے ویسے لوگ متبادل ذرائع کی طرف جا رہے ہیں۔ برقی گاڑیاں نہ صرف سستی پڑتی ہیں بلکہ ماحول کے لیے بھی بہتر سمجھی جاتی ہیں، اس لیے آنے والے برسوں میں ان کا استعمال مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

پاکستان کے لیے بھی اس صورتحال میں کئی مواقع موجود ہیں۔ ملک میں پہلے ہی بجلی کی ایک خاصی مقدار ایسی ہے جو مکمل طور پر استعمال نہیں ہو رہی۔ اگر اس بجلی کو برقی گاڑیوں کے فروغ میں استعمال کیا جائے تو نہ صرف تیل کی درآمد میں کمی آ سکتی ہے بلکہ شہریوں کو سستی سفری سہولت بھی مل سکتی ہے۔ دوسری جانب گھریلو اور تجارتی سطح پر شمسی توانائی کی طرف رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، جسے عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا جا رہا ہے۔ یہی ایک بڑی وجہ ہے کہ شدید دباؤ کے باوجود پاکستان کو بڑے پیمانے پر بجلی کی کمی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

دنیا میں ناروے ایک ایسی مثال ہے جہاں زیادہ تر بجلی پن بجلی سے حاصل کی جاتی ہے اور تیل پر انحصار نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسی طرح آئس لینڈ نے اپنی جغرافیائی خصوصیات کو استعمال کرتے ہوئے زمین کی حرارت سے توانائی حاصل کر کے خود کو تقریباً خود کفیل بنا لیا ہے۔ یہ ممالک اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر درست منصوبہ بندی کی جائے تو بیرونی انحصار کو کم کیا جا سکتا ہے۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ دنیا ایک نئے توانائی دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں طاقت کا معیار صرف تیل نہیں رہا بلکہ یہ اس بات سے جڑا ہے کہ کوئی ملک اپنے وسائل کو کس حد تک استعمال کر سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ اس عالمی تبدیلی کو سمجھے اور اپنی پالیسیوں کو اسی کے مطابق ڈھالے۔ اگر ملک بروقت فیصلہ کرے، مقامی وسائل کو فروغ دے، شمسی، ہوا اور پن بجلی کے منصوبوں کو وسعت دے اور برقی گاڑیوں کو عام کرے تو نہ صرف توانائی کا بحران کم ہو سکتا ہے بلکہ معیشت کو بھی ایک نئی زندگی مل سکتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو نہ صرف موجودہ بحران سے نکال سکتا ہے بلکہ مستقبل میں ایک مضبوط اور خود مختار معیشت کی بنیاد بھی رکھ سکتا ہے۔