آبنائے ہرمز کا بحران اور روزمرہ زندگی پر اثر
بظاہر آبنائے ہرمز کی بندش نے جس چیز پر اثر ڈالا وہ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ تیل اور گیس صرف گاڑیوں کو چلانے کا ذریعہ نہیں بلکہ جدید معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ ان کی قیمت میں معمولی سا اضافہ بھی ایک ایسےعمل کو جنم دیتا ہے جس کے اثرات زندگی کے ہر شعبے میں محسوس کیے جاتے ہیں۔
دنیا بھر کی صنعتیں بڑی حد تک ان ہی وسائل پر انحصار کرتی ہیں۔ پلاسٹک کی اشیاء، جو آج ہماری روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہیں، تیل سے تیار ہوتی ہیں۔ گھروں میں استعمال ہونے والی بوتلیں، پیکنگ کا سامان، بچوں کے کھلونے، یہاں تک کہ بجلی کے آلات کے کئی حصے بھی اسی سے بنتے ہیں۔ اسی طرح کھادوں کی تیاری میں گیس بنیادی خام مال کے طور پر استعمال ہوتی ہے، جس کے بغیر زرعی پیداوار کا تصور ممکن نہیں۔ جب گیس مہنگی ہوتی ہے تو کھاد مہنگی ہوتی ہے اور جب کھاد مہنگی ہوتی ہے تو خوراک کی قیمتیں بڑھنا لازمی ہو جاتا ہے۔
یہیں سے اثرات کا دائرہ مزید وسیع ہو جاتا ہے۔ خوراک کی قیمتوں میں اضافہ صرف کھاد تک محدود نہیں رہتا بلکہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں کیونکہ ایندھن مہنگا ہو چکا ہوتا ہے۔ سبزیاں، پھل، گندم اور دیگر اجناس کھیتوں سے منڈیوں تک پہنچانے کے لیے ٹرکوں اور دیگر ذرائع پر انحصار کرتی ہیں۔ جب ان کا کرایہ بڑھتا ہے تو ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے۔ یہی صورتحال گوشت، دودھ اور دیگر اشیائے خورونوش کے ساتھ بھی پیش آتی ہے۔
صنعتی شعبہ بھی اس دباؤ سے محفوظ نہیں رہتا۔ کپڑوں کی صنعت میں استعمال ہونے والے مصنوعی دھاگے، جیسے پالئیسٹر اور نائیلون، تیل سے تیار ہوتے ہیں۔ ان کی قیمت بڑھنے سے کپڑے مہنگے ہو جاتے ہیں۔ تعمیراتی شعبے میں سڑکوں کے لیے استعمال ہونے والا مواد، رنگ و روغن، کیمیکل اور دیگر اشیاء سب تیل سے جڑی ہوئی ہیں۔ یوں گھروں کی تعمیر سے لے کر روزمرہ استعمال کی ہر چیز کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔
ادویات اور کاسمیٹکس بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں کیونکہ ان میں استعمال ہونے والے کئی کیمیائی اجزاء تیل اور گیس سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ پیکنگ کے اخراجات بڑھنے سے اشیائے ضروریہ مزید مہنگی ہو جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ آن لائن خریداری اور ترسیل کی خدمات بھی ایندھن کی قیمتوں کے باعث مہنگی پڑتی ہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ تیل اور گیس کی قیمت میں اضافہ ایک ایسی خاموش لہر کی طرح ہوتا ہے جو بیک وقت ہر شعبے کو متاثر کرتی ہے۔ اس کا سب سے زیادہ بوجھ عام آدمی پر پڑتا ہے جس کی آمدنی وہیں رہتی ہے مگر اخراجات بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے عالمی بحران صرف جغرافیائی یا سیاسی نہیں رہتے بلکہ معاشی اور سماجی بحران میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔
پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ صورتحال اور بھی چیلنجنگ ہے کیونکہ یہاں پہلے ہی مہنگائی اور توانائی کے مسائل موجود ہیں۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس حقیقت کو سمجھیں کہ بیرونی انحصار ہمیں بار بار اسی قسم کے جھٹکوں سے دوچار کرتا رہے گا۔ اگر مقامی وسائل کو فروغ دیا جائے، متبادل توانائی کے ذرائع پر توجہ دی جائے اور توانائی کے استعمال میں بہتری لائی جائے تو اس دباؤ کو کم کیا جا سکتا ہے۔
آخر میں سب سے اہم بات یہی ہے کہ آبنائے ہرمز جیسے بحران ہمیں ایک واضح پیغام دیتے ہیں کہ توانائی صرف ایک شعبہ نہیں بلکہ پوری معیشت کی بنیاد ہے۔ جب تک ہم اس بنیاد کو مضبوط نہیں کریں گے، ہر عالمی ہلچل کا اثر ہمارے گھروں تک پہنچتا رہے گا۔ حکومتوں کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی اپنی ترجیحات بدلنا ہوں گی، بچت اور متبادل ذرائع کی طرف آنا ہوگا، کیونکہ آنے والے وقت میں یہی حکمت عملی ہمیں مہنگائی کے اس نہ ختم ہونے والے چکر سے نکال سکتی ہے۔

