ریفائنری کا بحران اور معیشت کا دباؤ
پاکستان کی معیشت کا ایک اہم مگر نظر انداز کیا جانے والا پہلو تیل صاف کرنے کی محدود صلاحیت ہے۔ ملک میں اس وقت خام تیل کو قابل استعمال مصنوعات میں تبدیل کرنے کی مجموعی صلاحیت تقریباً ساڑھے چار لاکھ بیرل یومیہ کے قریب ہے، مگر عملی طور پر اس کا بھی مکمل استعمال نہیں ہو پاتا۔ اس کے برعکس ملک کی مجموعی ضرورت اس سے کہیں زیادہ ہے، جس کے باعث پاکستان کو نہ صرف خام تیل بلکہ بڑی مقدار میں تیار شدہ پیٹرول اور ڈیزل بھی بیرون ملک سے درآمد کرنا پڑتا ہے۔
یہ صورتحال محض ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ براہ راست معاشی دباؤ کا سبب ہے۔ ہر سال اربوں ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ صرف ایندھن کی درآمد پر خرچ ہو جاتا ہے، جس سے تجارتی خسارہ بڑھتا ہے اور کرنسی پر دباؤ آتا ہے۔ خاص طور پر جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کا اثر فوری طور پر پاکستان کی معیشت پر پڑتا ہے، جیسا کہ حالیہ برسوں میں دیکھا گیا۔
مسئلے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کی زیادہ تر ریفائنریاں پرانی طرز کی ہیں جو زیادہ مقدار میں فرنس آئل پیدا کرتی ہیں، جبکہ ملک کو اصل ضرورت پیٹرول اور ڈیزل کی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی سطح پر پیداوار ہونے کے باوجود ہمیں اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے تیار شدہ ایندھن درآمد کرنا پڑتا ہے۔ اس عدم توازن نے نہ صرف توانائی کے شعبے کو غیر مؤثر بنایا ہے بلکہ بجلی کی پیداوار اور صنعتی سرگرمیوں پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر پاکستان کو اپنی توانائی کی ضروریات میں خود کفیل ہونا ہے تو اسے اپنی موجودہ ریفائنری صلاحیت کو کم از کم دوگنا کرنا ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک کو تقریباً آٹھ سے دس لاکھ بیرل یومیہ کی صلاحیت تک پہنچنا ہوگا، جو موجودہ سطح سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نئی ریفائنریاں جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ہونی چاہئیں تاکہ وہ عالمی معیار کے مطابق زیادہ قیمتی مصنوعات تیار کر سکیں۔
حکومت کی جانب سے اس شعبے میں بہتری کے لیے پالیسیاں ضرور متعارف کرائی گئی ہیں، مگر ان پر عمل درآمد کی رفتار سست ہے۔ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا، پالیسی میں تسلسل لانا اور طویل مدتی منصوبہ بندی کرنا اس شعبے کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ اگر یہ اقدامات بروقت نہ کیے گئے تو پاکستان کا درآمدی انحصار مزید بڑھتا جائے گا۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ ریفائنری کا شعبہ صرف توانائی کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی خودمختاری کا معاملہ بن چکا ہے۔ جب تک پاکستان اپنی ضرورت کا ایندھن خود تیار کرنے کے قابل نہیں ہوگا، وہ عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ اور بیرونی دباؤ سے آزاد نہیں ہو سکتا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس شعبے کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھا جائے، نئی ریفائنریاں قائم کی جائیں، پرانی تنصیبات کو جدید بنایا جائے اور ایک واضح حکمت عملی کے تحت آگے بڑھا جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف درآمدی بل کو کم کر سکتا ہے بلکہ معیشت کو ایک مضبوط بنیاد بھی فراہم کر سکتا ہے۔

